نئی دہلی،12/فروری(آئی این ایس انڈیا)دہلی الیکشن کے بعد اب سب کی نظریں بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات پر ہے۔پہلی بار بہار میں بی جے پی، جے ڈی یو اور ایل جے پی ایک ساتھ اسمبلی انتخابات لڑنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ایسے میں ایل جے پی نے اپنی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔اس کے لئے ایل جے پی میں ملاقاتوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔بہار میں بی جے پی اور جے ڈی یو کی حلیف پارٹی لوک جن شکتی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس سال اکتوبر - نومبر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے اپنا الگ منشور جاری کرے گی۔منشور کا نام’بہار فرسٹ بہاری فرسٹ ویژن دستاویز 2020‘ رکھا جائے گا۔اس منشور میں پارٹی اگلے پانچ سالوں کے لئے بہار کی ترقی کا اپنا روڈ میپ لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتی ہے۔منشور کے 14 اپریل یعنی بھیم راؤ امبیڈکر کی جینتی کے دن پٹنہ میں جاری کئے جانے کا امکان ہے۔پارٹی کے قومی صدر چراغ پاسوان نے منشور کا مسودہ تیار کرنے کے لئے ایک سات رکنی ڈرافٹ کمیٹی کا قیام کیا ہے۔کمیٹی میں صدر کے طور پر چراغ پاسوان کے علاوہ 6 دیگر رکن شامل ہیں۔ان میں پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری عبد الخالق اور بہار ریاستی صدر پرنس راج بھی شامل ہیں۔چراغ پاسوان نے کہاکہ ہم ویژن دستاویز کا مسودہ تیار کرنے کے لئے براہ راست گاؤں سطح پر عوام سے بات چیت کر کے ان کی آراء لیں گے۔ بہار میں ایل جے پی کا بی جے پی اور جے ڈی یو کے ساتھ الیکشن لڑنا طے مانا جا رہا ہے لیکن پارٹی نے صاف کر دیا ہے کہ وہ الیکشن لڑنے کے لئے 119 سیٹوں پر تیاری کر رہی ہے۔حالانکہ پارٹی نے یہ بھی صاف کیا ہے کہ ان سیٹوں میں وہ سیٹیں شامل نہیں ہیں جن پر فی الحال بی جے پی یا جے ڈی یو کا قبضہ ہے۔ایسے میں پارٹی کا اپنا الگ منشور جاری کرنے کا فیصلہ تھوڑا چونکانے والا بھی ہے۔جب ڈرافٹنگ کمیٹی کے رکن سوربھ پانڈے سے یہ سوال پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کا خیال ہے کہ بہار کے تناظر میں کچھ ضروری مسائل ہیں جنہیں منشور میں شامل کیا جائے گا تاکہ اگلی حکومت ان پر عمل کرنے کی پابند ہو۔پارٹی نے 21 فروری سے بہار میں ’پدیاترا‘ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ساتھ ہی، 14 فروری کو پٹنہ میں ایک بڑی ریلی کرنے کا بھی پروگرام ہے جس میں منشور جاری کیا جا سکتا ہے۔